Monday, 29 August 2016

قربانی کے احکام و مسائل
اسلام نے سال بھر میں عید کے صرف دو دن مقرر کئے ہیں ایک عید الفطر کا اور دوسرا عید الاضحی کا اور ان کو عبادت قرار دیا جو کہ ہر سال مسلم قوم بڑے جوش جذبے کے ساتھ کرتی ہے۔ عید الاضحی اس وقت منائی جائی ہے جب کہ مسلمانان عالم اسلام ایک عظیم الشان اجتماعی عبادت یعنی حج کی تکمیل کر رہے ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ عبادات کے اختتام اور ابتدا کی خوشی کو ئی دنیوی خوشی نہیں بلکہ دینی خوشی ہے اور اس کے اظہار کا طریقہ بھی دینی ہی ہو نا چاہیے ۔اس لئے عید کے موقع پر مسلمان اللہ کے حضور سربسجود ہو کر شکر بجا لاتے ہیں اور بطور شکر کے عید الفطر کے دن صدقہ اور عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کرتے ہیں ۔تو جب یہ عبادت ہے تو اس کے احکام جاننا بھی ضروری ہوئے تاکہ ہماری محنت اور رقم کہیں ضائع نہ ہو اور شریعت کے احکام کے مطابق ہم اپنی عبادت کو پایۂ تکمیل تک پہنچاسکیں جو کہ ہمارے لیے رضائے خدا وندی کا ذریعہ بنے قربانی کس پر واجب ہے:
(1) جتنے مال پر صدقہ فطر واجب ہو تا ہے اتنے مال پر بقر عید کے دنوں میں قربانی کرنا بھی واجب ہو تی ہے اور اگر اتنا مال نہ ہو تو اس پر قربانی واجب تو نہیں ہے لیکن اگر پھر بھی کر دے تو بہت ثواب ہے۔
ایک اہم غلط فہمی کا ازالہ:
قربانی کے دنوں میں جانور ذبح کرنے ہی سے قربانی ادا ہو تی ہے جانور کے زندہ صدقہ کرنے یا اس کی قیمت کو خیرات کرنے سے قربانی اد انہیں ہوتی کیونکہ قربانی ایک مستقل عبادت ہے اور صدقہ خیرات علیحدہ ثواب کا کام ہے ۔اور ظاہر ہے کہ ایک عبادت کے ادا کرنے سے دوسری مستقل عبادت ادا نہیں ہوتی اس لئے صدقہ خیرات کر نے سے قربانی بھی ادا نہیں ہوتی۔ جیسے صدقہ یا خیرات کرنے سے حج یا نماز ادا نہیں ہوتے۔
(2) مسافر جو اڑتالیس میل کی مسافت کے ارادہ سے سفر شروع کر چکا ہو اس پر بھی قربانی واجب نہیں۔
(3) اتنا مال جس پر قربانی واجب ہوتی ہے کسی کی ملکیت میں بقر عید کی بارہ تاریخ کے سورج غروب ہو نے سے پہلے ہی آیا ہو تو اس پر بھی قربانی واجب ہے ۔اگر اس نے اتنے مال کے ملکیت میں آنے سے پہلے قربانی کر دی اور پھر بارہ تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے مالدار ہو گیا تو پھر پہلی قربانی ہی کافی ہے ۔اسی طرح کوئی مسافر بارہ تاریخ کو غروب آفتاب سے پہلے گھر آگیا ہو یا کسی جگہ اس نے پندرہ روز کے قیام کا ارادہ کر لیا ہو تو اس پر بھی قربانی واجب ہو جا ئے گی۔
(4) قربانی جس طرح مردوں پر واجب ہوتی ہے اسی طرح اگر کسی عورت کی ملکیت میں اتنا مال ہو جس پر قربانی واجب ہو تی ہے تو عورت پر بھی قربانی واجب ہو گی ۔
(5) جو مسلمان مرد یاعورت اتنے مال کا مالک ہو جس پر قربانی واجب ہو تی ہے جب تک اتنا مال اس کی ملکیت میں رہے گا اس پر ہر سال قربانی واجب ہو گی صرف ایک سال قربانی کر دینا کافی نہیں۔
(6) اگر بھائی مشترک کاروبار کرتے ہوں اور ان کا کھانا پینا اخراجات بھی مشترک ہوں تو جو کچھ مال اس مشترک کاروبار سے حاصل ہو گا اس میں سے اگر ہر بھائی کے حصے میں اگر اتنا مال آتا ہو جس پر قربانی واجب ہو تی ہے تو ہر بھائی کے ذمے الگ الگ قربانی واجب ہو گی ۔ اور اگر اتنے مال سے کم حصے میں آتا ہے تو کسی کے ذمہ بھی واجب نہیں ۔
قربانی کا وقت:
بقر عید کی دسویں سے لے کر بارھویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے تک قربانی کا وقت ہے ان دنوں میں جس وقت چاہے قربانی کرے مگر رات کو ذبح کرنا بہتر نہیں۔ اور سب سے افضل بقر عید کا دن ہے پھر گیارھویں پھر بارھویں تاریخ ہے ۔ شہروں میں بقر عید سے پہلے قربانی کرنا درست نہیں اور دیہات میں دسویں کی صبح صادق کے بعد بھی قربانی کر دینا درست ہے۔ شہر میں اگر کسی نے بقر عید کی نمازسے پہلے قربانی کر دی تو اس کو دوبارہ قربانی کر نا ضروری ہے قربانی کا جانور اگر شہر میں ہے تو پھر چاہے قربانی کرنے والا گاؤں میں ہو نماز عید سے پہلے ذبح کرنا درست نہیں اور اگر قربانی گاؤں میں ہو تو اس کا نماز عید سے پہلے صبح صادق کے بعد ذبح کرنا جائز ہے۔
قربانی کے جانور:
بکری،بکرا،بھیڑ، دنبہ، گائے بیل ،بھینس ،بھینسا، اونٹ اور اونٹنی، صرف ان جانوروں کی قربانی جائز ہے مرغی یا مرغے کو قربانی کی نیت سے ذبح کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔
قربانی کی عمر:
بکرا،بکری ایک سال سے کم اور گائے،بیل، بھینس،بھینسا دوسال سے کم اور اونٹ، اونٹنی پانچ سال سے کم عمر کی جائز نہیں ہے اور بھیڑ ،دنبہ چکتی دار ہو یا بغیر چکتی کے ہو اگر ایسا فربہ (صحت مند) کہ سال بھر کا معلوم ہو تا ہو تو چھ ماہ کا بھی جائز ہے اور اگر ایسا فربہ نہیں تو پھر سال بھر سے کم کا جائز نہیں۔
قربانی میں شراکت:
بکری ،بکرا، بھیڑ ،دنبہ، کو صرف ایک شخص کی طرف سے قربان کیا جا سکتا ہے اور گائے ،بیل، بھینس، بھینسا، اونٹ ،اونٹنی میں سات آدمی تک شریک ہو سکتے ہیں اس سے زیادہ شریک نہیں ہو سکتے اور سات سے کم دو چار چھ جتنے بھی ہوں کوئی ہرج نہیں بشرطیکہ کسی کاحصہ ساتویں حصہ سے کم نہ ہو اور سب کی نیت یا تو قربانی کرنے کی ہو اگرچہ ان میں بعض کی نیت واجب قربانی کرنے کی ہو اور بعض کی نفلی۔
قربانی کے عیب:
(1) جس جانور کے پیدائشی سینگ نہ ہوں یا بعد میں ٹوٹ گئے ہوں تو اس کی قربانی جائز ہے اور اگر بالکل جڑ سے ٹوٹ گئے ہو ں تو جا ئز نہیں ۔
(2) جس جانور کے چھوٹے چھوٹے کان ہوں اس کی قربانی جائز ہے اور اگر ایک یا دونوں کان پیدائشی نہ ہو یا ایک کان پورا کٹا ہوا ہو تو جائز نہیں۔
(3) جس جانور کے دونوں کان تھوڑے تھوڑے کٹے ہوئے ہوں یا کان میں کئی سوراخ ہوں جو جمع کرنے سے تہائی سے زیادہ ہو جا تے ہوں تو احتیاط یہ ہے کہ اس جانور کی قربانی نہ کرے اسی طرح کان یا دم تہائی سے زیادہ کٹی ہوئی ہو تو قربانی ناجائز ہے ۔
(4) جو جانور اندھا ہو یا اس کی ایک آنکھ کی بینائی تہائی سے زیادہ جاتی رہے تو اس کی قربانی جائز نہیں اور اگر آنکھ کی نگاہ ترچھی ہو تو قربانی جائز ہے ۔
(5) جس جانور کی ناک کٹی ہو اس کی قربانی جائز نہیں۔
(6) جس جانور کے دانت بالکل نہ ہو اس کی قربانی ناجائز ہے اور اگر اس قدر باقی ہیں کہ گھاس وغیرہ کھا سکتا ہے تو جا ئز ہے۔
(7) جس جانور کی زبان تہائی سے زیادہ کٹی ہو اس کی قربانی جائز نہیں۔
(8) مخنث جانور کی قربانی جائز نہیں ۔
(9) خصی جانور کی قربانی درست بلکہ افضل ہے۔
10)) جس جانور کا پاؤں کٹا ہوا ہو اس کی قربانی جائز نہیں۔
(11) جس جانور کے تھن بالکل کٹے ہوئے ہوں یا ایک تھن تھائی سے زیادہ کٹا ہوا ہو اس کی قربانی جائز نہیں اور اگر بیماری کی وجہ سے بھیڑ بکری کا ایک تھن یا گائے اور بھینس اور اونٹنی کے دو تھن سوکھ گئے ہوں تو قربانی جائز نہیں، یہی حکم ہے اگر تھن کا سر کٹ گیا ہو تو بھی جائز نہیں ۔اور اگر بیماری کے بغیر دودھ سوکھ گیا ہو تو جائز ہے۔
(12) جو جانور ایسا لنگڑا ہو کہ فقط تین پاؤں سے چلتا ہو چوتھا پاؤں زمین پر نہیں رکھ سکتا یا رکھ سکتا ہے مگر اس پر چل نہیں سکتا تو اس کی قربانی جائز نہیں اور اگر چوتھا پاؤں ٹیک کر چل سکتا ہے تو جائز ہے۔ ایسے دبلے کمزور جانور کی قربانی ناجائز ہے جس کی ہڈی میں گودا نہ رہا ہو اگر اتنا کمزور نہ ہو تو جائز ہے۔
(13) مجنون جانور اگر چل پھر کر چر سکے اور جس جانور کو خارش ہو اور موٹا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے اور اگر دونوں اتنے کمزور ہو گئے کہ ان کی ہڈی میں گودا ہی نہ رہا ہو تو پھر جائز نہیں ۔
(14) جو جانور زیادہ عمر ہونے کی وجہ سے بچہ دینے کے قابل نہیں اور جس کو کھانسی ہو اور جس کے بدن پر گرم لوہے سے داغ دیا گیا ہو اور جس کا کان چیراہوا ہو یا اس میں سوراخ ہو بشرطیکہ سوراخ کان کی تہائی سے کم ہو ان کی قربانی جائز ہے ۔
(15) مستحب یہ ہے کہ قربانی کے جانور میں جائز عیبوں میں سے بھی کوئی عیب نہ ہو ۔
(16) اگر قربانی کے جانور کو خریدنے کے بعد کوئی ایسا عیب لگ گیا جس سے قربانی نہیں ہو سکتی تو قربانی کرنے والا اگر غنی ہے جس پر قربانی واجب ہے تو دوسرا جانور خرید کر قربانی کرے اور اگر غریب ہے تو اسی کو ذبح کر دے ۔
(17) اگر خریدتے وقت وہ جانور عیب دار تھا تو غریب کے لئے اسی حالت میں اس کی قربانی جائز ہے اور امیر کے لیے اس وقت جائز ہے جب کہ اس کا عیب جاتا رہے مثلاً پہلے بہت کمزور تھا اور لاغر تھا بعد میں موٹا ہو گیا ۔
مسائل ذبح:
(1) اگر ذبح کرتے وقت گرنے یا تڑپنے سے کوئی ایسا عیب لگ گیا جو قربانی کو مانع ہو تو کوئی حرج نہیں ۔
(2) حاملہ جانور کی قربانی درست ہے البتہ جو جانور بچہ دینے کے قریب ہو اس کو ذبح کرنا مکروہ ہے۔
(3) اگر قربانی کے جانور کا بچہ پیدا ہو جا ئے تو اس بچہ کو زندہ ہی صدقہ کر دینا مستحب ہے اور اگر ذبح کر دیا تو اس کا گوشت نہ کھائے بلکہ صدقہ کر دے اور ذبح کرنے سے اس کی قیمت میں جو زندہ ہونے کی صورت میں تھی اتنی رقم بھی صدقہ کر دے اور اگر گوشت کھا لیا تو اس کی قیمت بھی صدقہ کر دے اور اگر اس بچہ کو اس خیال سے رکھ لیا کہ آئندہ ہ سال قربانی کروں گا تو ناجائز ہے۔
(۴) مستحب ہے قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرے اور اگر خود ذبح نہ کر سکے تو دوسرے کو حکم دے اور خود ذبح کے وقت حاضر رہے۔
فائدہ: اگر وہاں کوئی غیر محرم نہ ہو تو عورت کو بھی اپنی قربانی کے پاس کھڑا ہو نا مستحب ہے ورنہ پردہ ضروری ہے۔
(۵) قربانی کا گوشت اور کھال وغیرہ قصاب کو اجرت میں دینا منع ہے۔
(۶) قربانی کرنے والے نے ذبح کرنے والے کے ساتھ چھری ہاتھ میں پکڑی اب ذبح کرتے وقت ان دونوں میں سے اگر ایک نے بھی دانستہ بسم اللہ چھوڑ دی تو جانور حرام ہو جائے گا۔
مستحب یہ ہے کہ قربانی کے جانور کو قربانی سے پہلے چند دن گھر میں باندھ کہ رکھے اور اس کو جھول پہنائے اور اس کے گلے میں قلادہ یعنی چمڑا وغیرا کا کوئی ٹکڑا لٹکائے اور ذبح کرتے وقت اسے آرام اور نرمی کے ساتھ لٹائے چھری کو پہلے اچھی طرح تیز کرے اور ذبح کے بعد جب جانور اچھی طرح ٹھنڈا ہو جا ئے تو اس کی کھال اتارے اس سے پہلے کھال اتارنا مکروہ ہے۔ اسی طرح جانور کو لٹا کر اس کے سامنے چھری تیز کرنا اور کوئی بے ضرورت تکلیف دینا مکروہ ہے اور روح نکلنے سے پہلے حرام مغز تک چھری پہنچا کر سر الگ کرنا مکروہ ہے۔
(۷) ذبح کرنے والے کو ذبح کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا سنت مؤکدہ ہے اس کا ترک بغیر عذر کے مکروہ ہے۔
(۸) مرتد، زندیق، رافضی اورقادیانی کاذبیحہ حرام ہے ۔ان سے ذبحہ نہ کرائیں نہ قربانی کے موقع پر نہ کسی اور وقت۔قربانی کا گوشت اور کھال :
قربانی کے گوشت کا خود کھانا اور رشتہ داروں اور مالداروں میں تقسیم کرنا اور فقیروں محتاجوں کو خیرات کرنا سب جائز ہے،بہتر یہ ہے کہ تہائی گوشت سے کم خیرات نہ کرے لیکن اگر کسی نے تہائی سے کم خیرات کیا تو بھی کوئی گناہ نہیں۔ البتہ منت اور نذر کی قربانی کا سب گوشت خیرات کر نا ضروری ہے اس میں سے نہ خود کھا سکتا ہے نہ امیروں کو دے سکتا ہے۔
قربانی کا گوشت بیچنا مکروہ ہے اس طرح سری پائے اور اس کی چربی کا بیچنا حلال نہیں اگر کسی نے ان چیزوں کو بیچ دیا تو ان کی قیمت صدقہ کرے۔قربانی کی کھال کا بعینہ ڈول ،مصلی وغیرہ بنا کر خود استعمال کرنا بھی جائز ہے اور کسی امیر کو دے دینا بھی جائز ہے اور اگر اس کھال کو ایسی چیز سے تعبیر کر لیاکہ بعینہ اس چیز کے وجود سے کچھ مدت تک نفع حاصل ہو سکتا ہے جیسے مشک ۔چھلنی۔ جائے نماز، کپڑا وغیرا تو یہ بھی جائز ہے لیکن اگر کسی ایسی چیز کے ساتھ تبدیل کر دیا جس کے وجود سے بعینہ نفع حاصل نہیں ہو سکتا یا اس کو روپے پیسے کے ساتھ فروخت کر دیا تو اب اس کی قیمت کو خود استعمال نہیں کر سکتا نہ کسی امیرکو دے سکتا ہے بلکہ اس کو صدقہ کر دیا جا ئے۔
فائدہ: مدارس اسلامیہ کے طلبہ اس صدقہ کے بہترین مصرف ہیں اس میں صدقے کا ثواب بھی ہے اور علم دین کے احیاء کا بھی۔ مگر کسی خدمت اور معاوضہ میں دینا اس کا جائز نہیں اسی طرح قربانی کے جانور کی رسی وغیرہ سب صدقہ کر دے۔
تنبیہ:
بعض لوگ چرم قربانی کی قیمت بیوہ عورتوں کو دے دیتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ اس کے پاس سونا چاندی کا زیور یا نقدی تو بقدر نصاب نہیں ہے ۔اس طرح یہ بھی دستور ہے کہ اس کی قیمت کو بہنوں وغیرہ کا حق سمجھا جا تا ہے اور مالدار بہنوں بیٹیوں کو بھی دے دیتے ہیں یہ درست نہیں البتہ بیوہ عورت یا بہن اگر غریب ہو تو اس کو دے سکتے ہیں۔
قربانی کی قضائ:
( 1) اگر کسی شخص نے پچھلے سالوں کی واجب قربانی ادا نہ کی ہو تو اس کو ہر سال کی قربانی کے عوض قربانی کی قیمت کا صدقہ میں دینا واجب ہے ۔قربانی کے ایام گزرنے کے بعد قربانی نہیں کر سکتا۔
(2) اگر کوئی شخص قربانی کے دنوں میں مالدار تھا لیکن اس نے قربانی نہیں کی پھر ان دنوں کے گزرنے کے بعد وہ شخص غریب ہو گیا اب اگر اس نے قربانی کا جانور خریدا تھا تو اس کو صدقہ کر دے ورنہ اتنی رقم خیرات کرے جس سے قربانی ہو سکتی ہے۔
(3)اگر کوئی شخص مالدار ہو اور اس نے قربانی نہ کی ہو اور نہ ہی قربانی کے دن گزرنے کے بعد اتنی رقم قربانی کے عوض خیرات کی ہو جس سے قربانی ہو سکتی ہے تو اس پر واجب ہے کہ وہ وصیت کرے کہ اس کی طرف سے اس کا وارث قربانی کی قیمت صدقہ کرے۔
(4) اگر قربانی کے لئے جانور خریدا اور قربانی کے دنوں میں ذبح نہ کیا تو اب اس قربانی کی قضاء کے ارادہ سے اس کو آئندہ سال ذبح کرنا جائز نہیں بلکہ اس جانور کو زندہ صدقہ کرناواجب ہے۔ اگر ذبح کر لیا تو اس کا گوشت کھانا اس کے لیے جائز نہیں بلکہ ذبح کرنے سے جانور کی قیمت میں جو نقصان ہوا وہ رقم اور اس کا تمام گوشت پوست خیرات کر دے۔
عشرہ ذوالحجہ کے متفرق مسائل:
(1) جو آدمی قربانی کا ارداہ رکھتاہو اس کے لئے مستحب ہے کہ وہ ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد بال، ناخن کٹانے اور حجامت بنوانے سے دسویں ذوالحجہ تک رُکا رہے ۔
(2) بقر عید کی پہلی تاریخ سے لے کر نو تاریخ تک ہر دن کا روزہ رکھنا ایک ایک دن کا روزہ ثواب میں سال بھر کے روزوں کے برابر ہے ۔ نویں تاریخ یعنی عرفہ کے دن کا روزہ ثواب میں دو سال کے روزوں کے برابر ہے پھر دسویں سے لے کے تیرھویں تاریخ تک روزہ رکھنا حرام ہے۔
تکبیر تشریق :
تکبیر تشریق ناویں ذوالحجہ کی نماز فجر کے بعد تیرہویں تاریخ کی عصر کے نماز کے بعد تک ہر فرض عین نماز کا سلام پھیرتے ہی ایک مرتبہ بلند آواز سے کہنا واجب ہے البتہ عورتیں آہستہ آہستہ آواز میں کہیں۔
تنبیہ: بہت سے لوگ غفلت کرتے ہیں اس تکبیر کو پڑھتے نہیں یا آہستہ پڑھ لیتے ہیں حالانکہ ان کا درمیانہ طریقہ میں بلند آواز سے پڑھنا واجب ہے ۔
فائدہ: ذوالحجہ کی گیارویں،باہرویں ،تیرہویں ، تاریخ کو ایام تشریق کہتے ہیں تکبیرات تشریق یہ ہیں :
اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر،اللہ اکبر وللہ الحمد
1)) نماز جنازہ اور وتروں اور سنتوں کے بعد یہ تکبیرات نہ کہیں۔
2)) تکبیر ات تشریق امام، مقتدی، منفرد ،عورت، مرد، مسافر، مقیم، شہر والوں اور دیہات والوں سب پر واجب ہے ۔
((3 جن دنوں میں یہ تکبیر ات کہی جاتی ہیں اگر ان دنوں کی کوئی نماز رہ گئی ہو اور اب اگر اس کی قضاء اسی سال کے انہی دنوں میں کی جائے تب تو یہ تکبیرات کہی جائیں گی ورنہ نہیں مثلاً: نویں تاریخ کی نماز کی قضاء اسی سال کی دسویں کو کی جائے تو تکبیر بھی نماز کے بعد کہی جائے اور اگر اس کی قضاء ان دنوں کے گزرنے کے بعد یا اگلے سال کے انہی دنوں میں کی جائے اسی طرح ان دنوںسے پہلے کی نماز اگر ان دنوں میں پڑھے تو یہ تکبیرات نہ پڑھے۔
4)) مسبوق یعنی جس کی رکعات رہ گئی ہووہ بھی اپنی رکعات پوری کرنے کے بعد یہ تکبیر کہے گا۔ لیکن اگر بھول کر امام کے ساتھ ہی تکبیر تشریق کہہ لی تو بھی نماز ہو گئی اور لاحق جس کی رکعت امام کی اقتداء کرنے کے بعد رہ گئی ہو اس پر بھی یہ تکبیر واجب ہے۔
((5 نماز کا سلام پھیرنے کے بعد جب تک قبلہ سے سینہ نہ پھیرا ہو اور نہ کوئی ایسا کام کیا ہو جس سے نماز کی بنا ممنوع ہو جا تی ہے اس وقت تک یہ تکبیر کہنا ضروری ہے۔
(6) نماز کے سلام کے بعد اگر کسی نے قہقہہ لگا دیا یا عمداً حدث کیا یا کلام کیا تو اب یہ تکبیرات نہیں کہہ سکتا البتہ اگر سلام کے بعد خود بخود حدث ہو گیا تو یہ تکبیرات کہہ لے کیونکہ ان کے لیے وضو شرط نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان مقدس فرائض کی ادائیگی مکمل حقوق کی رعایت کے ساتھ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں




Wednesday, 13 April 2016


پردہ کے متعلق حیلے بہانے
پردہ حکم شرعی ہے اور واجب ہے لیکن خال خال ہی ایسے خاندان پائے جاتے ہیں جن میں شرعی پردہ کا اہتمام کیا جاتا ہو۔ جو عورتیں پردہ کرتی ہی نہیں، بازاروں، میلوں اور پارکوں میں بے پردہ بنی ٹھنی پھرتی ہیں اور نصرانی عورتوں کی نقل اتارنے کو فخر سمجھتی ہیں، اس وقت ان کا ذکر کرنا مقصود نہیں، انہوں نے تو طے کر لیا ہے کہ ہم کو اس بارے میں اسلام کے مطابق عمل کرنا ہی نہیں ہے، اللہ تعالیٰ ان کو دین پر عمل کرنے کے جذبات نصیب فرمائے۔ آمین
جو عورتیں پردہ کرنے والی ہیں، ان کی بے پردگی کے چند حیلے بہانے ذکر کرنا مقصود ہے۔
نامحرموں سے پردہ واجب ہے
مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ نا محرم ہیں ان سے پردہ کرنا واجب ہے۔ محرم اس کو کہتے ہیں جس سے کبھی بھی نکاح درست نہ ہو اور نا محرم وہ ہے جس سے کبھی نہ کبھی نکاح ہوسکتا ہو۔
ماموں، پھوپھی، خالہ اور چچا کے لڑکے نا محرم ہیں
ماموں اور پھوپھی کے لڑکے اور چچا اور خالہ کے بیٹے بھی نامحرم ہیں لیکن بڑی بڑی پر دے دار خواتین ان سے پردہ نہیں کرتیں اور ان سے پردہ کرنے کو عار اور عیب سمجھتی ہیں۔ رشتہ داروں میں بھی بہت سے جاہل ہوتے ہیں جو بطور اعتراض یوں کہتے ہیں کہ ہم ماموں یا پھوپھی یا خالہ چچا کے گھر گئے تھے، ان کی لڑکی نے ہم سے پردہ کیا اور غیر سمجھا، حالانکہ شریعت پر چلنے کا ارادہ ہوتو اپنا ہر جذبہ ختم ہوجاتا ہے۔ جب شریعت نے ان رشتوں کو اتنا قریب قرار نہیں دیا کہ بے پردہ ہوکر سامنے آئیں تو اپنے اور غیر کا سوال اٹھانا جہالت کی بات ہے۔ آپ کا رشتہ ماموں اور پھوپھی اور خالہ سے ہے جو قریب ترین رشتہ ہے اور ان سے پردہ کا حکم بھی نہیں ہے اور ان کی اولاد سے چونکہ نکاح جائز ہے اس لیے ان سے پردہ ہے۔
جیٹھ، دیور، بہنوئی، نندوئی سے پردہ لازم ہے
جیٹھ، دیور، بہنوئی اور نندوئی سب کو اپنے سگے بھائی کا درجہ دے رکھا ہے۔ ان لوگوں سے پردہ کرنے کو کہا جاتا ہے تو الٹے سیدھے سوال جواب کرتی ہیں اور شریعت کے حکم کو ٹھکراتی ہیں، دیور کے بارے میں کہتی ہیں کہ یہ تو ہمارے سامنے کا چھوٹا سا بچہ ہے، ہم نے اسے گود میں کھلایا ہے، اس سے کیا پردہ؟ فضول کی کٹ حجتی کرتی ہیں، جب چھوٹا تھا تو چھوٹا تھا  اب تو چھوٹا نہیں رہا، چھوٹے کا حکم اور ہے بڑے کا حکم اور ہے۔
عورتوں کا یہ کہنا کہ آنکھ یا دل کا  پردہ کافی ہے اس کاجواب
بعض جہالت کی ماری یوں کہتی ہیں کہ آنکھ کا پردہ کافی ہے، کبھی کہتی ہیں کہ دل کا پردہ ہونا چاہیے۔ شریعت کے حکم کے سامنے اپنی طرف سے مسئلے گڑھنا بہت بڑی حماقت ہے اور شریعت کا مقابلہ ہے، اگر دل کا پردہ کافی ہوتا عورتوں کو پردہ کے اندر رہنے کا حکم کیوں ہوتا؟ اور موٹی چادریں اوڑھنے اور خاص طور سے سر اور سینہ ڈھانکنے کا خصوصی حکم کیوں دیا جاتا؟ اور نامحرموں کے سامنے بے پردہ ہوکر آنے سے کیوں منع کیا جاتا ہے؟
اور یہ بات کہ نظر کا پردہ کافی ہے یہ اس وقت چل سکتی تھی کہ جب سب مرد نظریں نیچی رکھتے اور سب عورتیں بھی نظریں نیچی رکھنے کی پابندی کرتیں، کوئی بھی نا محرم مرد یا عورت کسی نا محرم کو ہر گز نہ دیکھتا لیکن چونکہ نظروں پر قابو نہیں رہتا، نفس اور شیطان کی شرارت سے نظر ڈال لی جاتی ہے اس لیے پردہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حدیث سے تو یہ معلوم ہوا کہ حضور اکرمﷺسے صحابی خواتین نے پردہ کیا۔ جب یہ بات ہے تو آج کون شخص ایسا ہے جو آپﷺسے زیادہ دل کا پاک وصاف ہوسکتا ہے؟
حج کے موقع پر بے پردگی کے مظاہرہ کی تردید
حج کے موقع پر بڑی بڑی پردہ والی بے پردہ ہوجاتی ہیں پانی کے جہاز میں  اور ہوائی جہاز اور جدہ، مکہ اور مدینہ میں نا محرموں کے جھرمٹ میں گھس جاتی ہیں، طواف کرتے ہوئے اور منیٰ و عرفات اور مزدلفہ میں بلا جھجک مردوں میں گھسی رہتی ہیں۔ اگر کوئی پردہ کو کہے تو کہہ دیتی ہیں کیا حج میں بھی پردہ ہے؟ حج میں پردہ کیوں نہیں، کس جاہل نے یہ بتایا کہ حج میں پردہ نہیں ہے؟
حضرت عائشہؓ تو فرماتی ہیں کہ ہم نبی کریمﷺ کے ساتھ حج میں تھے، جب مرد ہمارے پاس سے گزر رہے تھے تو ہم اور ہماری ساتھ والی خواتین چہرہ کے سامنے کپڑا لٹکالیتی تھیں (یہ حدیث ’’ابو دائود شریف‘‘ میں ہے)
احرام کا یہ مطلب نہیں کہ نا محرموں کے سامنے چہرہ کھولے
مسئلہ کی صورت اتنی سی ہے کہ عورت احرام میں ہوتو چہرہ کو کپڑا نہ لگائے، کپڑا نہ لگنا اور بات ہے اور نامحرموں کے سامنے چہرہ کھولنا دوسری چیز ہے۔
حضرت عائشہؓ نے حالتِ احرام میں پردہ کرنے کا طریقہ بتادیا کہ چہرہ کے سامنے کپڑا لٹکائیں، اسی پر سب عورتیں عمل کریں۔ پھر یہ احرام تو چند دن ہی رہتا ہے، احرام کے دنوں کے علاوہ پورے سفر حج اور سفر عمرہ میں دو تین ماہ بے پردہ ہوکر رہنا کس دلیل سے جائز ہے؟ اور پھر چہرہ سے بڑھ کر ننگے سر پھرنا باریک دوپٹے اوڑھ کر سر کے بالوں کو جھلکانا اور دورے اعضاء (بازو وغیرہ) کود کھانا، اس کی کیا دلیل جواز ہے؟ کیا یہ بھی کوئی احرام کا مسئلہ ہے؟ کیا حج میں مرد مرد نہیں رہتے، یا سب سگے باپ یا سگے بھائی بن جاتے ہیں؟
بعض عورتیں خاص طور سے مدینہ منورہ میں پردہ کرنے کو بُرا سمجھتی ہیں، جب کوئی عورت پردہ کرتی ہے تو دوسری عورتیں کہتی ہیں، اری لے! یہ رسول اللہﷺسے بھی پردہ کررہی ہے۔ ان عورتوں کا یہ سوال عجیب ہے۔ حدیث مبارک میں تو یوں آیا ہے کہ ایک عورت نے پردہ کے پیچھے سے رسول اللہﷺکو ایک پرچہ دینا چاہا، آپﷺ نے اپنا دست مبارک سیکٹر لیا اور فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں کہ یہ مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا؟ اس نے عرض کیا کہ یہ عورت کا ہاتھ ہے، آپﷺ نے فرمایا کہ اگر تو عورت ہوتی تو اپنے ناخونوں (کی سفیدی) کو بدل دیتی یعنی مہندی لگالیتی۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابی خواتین رسول اللہﷺکے سامنے بے پردہ ہوکر نہیں آتی تھیں۔
عورتوں کا مدینہ منورہ میں بے پردہ گھومنے کا غلط حیلہ
پھر یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ جو ہزاروں مرد مسجد نبوی اور مدینہ منورہ کے گلی کوچوں اور راستوں اور بازاروں میں چل پھر رہے ہیں، یہ تو رسول اللہﷺنہیں ہیں، ان سے پردہ کیوں نہیں رہا؟ کیا یہ سب سگے بھائی ہیں؟ کیا ان کے مرد ہونے میں شک ہے؟ کچھ ہوش کی بات کریں۔
پیروں کے سامنے بے پردہ آنا
بہت سی عورتیں پیروں سے پردہ نہیں کرتیں اور کہتی ہیں کہ یہ تو پیر میاں ہیں ان سے کیا پردہ؟ یہ بات ان کو جاہل پیروں نے سکھائی ہے تاکہ عورتوں کے جھرمٹ میں گھسے رہیں۔ ایسا شخص پیرو مرشد ہی نہیں جو شریعت کے خلاف چلتا ہو اور نامحرم عورتوں میں گھستا ہو، ان سے ٹانگیں دبواتا ہو، یا ان کو ہاتھ لگاتا ہو، ایسے جھوٹے پیروں نے اپنا بھی ناس کھویا اور اپنے مرید اور مریدنیوں کو بھی ڈبو دیا ہے۔
آنحضرتﷺکا ارشاد ہے کہ میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔رسول اللہﷺسے بڑھ کر کوئی بھی مرشد نہیں ہے، جب آپ نے عورتوں کو بیعت فرمایا تو ارشاد فرمایا:’’انی لااصافح النسائ‘‘ (مؤطا)
میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔
جو لوگ واقعی اصلی اور حقیقی پیر ہیں وہ تو نا محرم عورتوں کو نہ اپنے سامنے بلاتے ہیں، نہ بیعت کے وقت ان سے مصافحہ کرتے ہیں۔

Wednesday, 7 October 2015

ABLUTION - A MEANS OF PURITY - REWARDS & PUNISHMENTS ! ABLUTION AS PER QURAN
O you who have believed, when you rise to [perform] prayer, wash your faces and your forearms to the elbows and wipe over your heads and wash your feet to the ankles. And if you are in a state of janabah, then purify yourselves. But if you are ill or on a journey or one of you comes from the place of relieving himself or you have contacted women and do not find water, then seek clean earth and wipe over your faces and hands with it. Allah does not intend to make difficulty for you, but He intends to purify you and complete His favor upon you that you may be grateful. [Holy Quran 5:6] KEY TO SALAH N PARADISE Jabir ibn Abdullah (RA) narrated that Allah's Messenger (SAW) said,”They key to paradise is the salah and the key to the salah is ablution." [Ahmed 14668] [Sunan Tirmidhi #4] ABLUTION AS PER SUNNAH Narrated by Humran(the slave of 'Uthman) I saw 'Uthman bin 'Affan(ra) asking for a tumbler of water (and when it was brought) he poured water over his hands and washed them thrice and then put his right hand in the water container and rinsed his mouth, washed his nose by putting water in it and then blowing it out. then he washed his face and forearms up to the elbows thrice, passed his wet hands over his head and washed his feet up to the ankles thrice. Then he said, "Allah's Apostle(pbuh) said FORGIVE PAST SINS BY PERFORMING TWO RAKAT PRAYER 'If anyone Performs ablution like that of mine and offers a two-rakat prayer during which he does not think of anything else (not related to the present prayer) then his past sins will be forgiven" FORGIVE SINS B/W CONCURRENT SALAH'S After performing the ablution 'Uthman(ra) said, "I am going to tell you a Hadith which I would not have told you, I heard the Prophet saying, 'If a man performs ablution perfectly and then offers the compulsory congregational prayer, Allah will forgive his sins committed between that (prayer) and the (next) prayer till he offers it. Sahih Bhukari [Volume 1, Book 4, Number 161] PURITY - A MEANS OF WASHING ALL THE SINS AWAY Sayyidina Abu Huraira (RA) reported that the Prophet (SAW) said, "When a Muslim slave or a Believer washes his face while performing ablution then, with the water, or the last drop of water, all his sins committed with his eyes are washed away. When he washes his hands then all sins commited with them are washed away with water or the last drop of water till comes out pure from sins." [Ahmed 8026, Muslim 244] [Tirmidhi #2] HEELS ON FIRE Narated By ‘Abdullah bin Amr, The Prophet(ra) remained behind us on a journey. He joined us while we were performing ablution for the ‘Asr prayer which was over-due and we were just passing wet hands over our feet (not washing them thoroughly) so he addressed us in a loud voice saying twice or thrice, “Save your heels from the fire.” Sahih Bhukari [Volume 1,Book 003,Hadith 164]

Farz and Wajibat of Namaz

There are 13 farz in namaz in which some of them are must be doing before the namaz and some of them are doing during namaz. For prey namaz should be clean space where you prey namaz, clothes, body. More detail read in bellow in Urdu
 نماز کے فرائض اور واجبات،
نماز کے کل 13 فرائض ہیں، جن میں سے 6 امور کو شرائط بھی کہتے ہیں تو اس طرح  6 شرائط اور 7 فرض ہوئے،
شرائطِ نماز
نماز کی  شرطیں چھ ہیں: 1 طہارت یعنی نمازی کا بدن اور کپڑے پاک ہوں۔ 2 نماز کی جگہ پاک ہو۔ 3 سترِ عورت یعنی بدن کا وہ حصہ جس کا چھپانا فرض ہے وہ چھپا ہوا ہو۔ مردکے لیے ستر ناف سے لے کر گھٹنے تک ہے اور عورت کے لیے ہاتھوں، پاؤں اور چہرہ کے علاوہ سارا بدن ستر ہے۔ 4 استقبالِ قبلہ یعنی منہ اور سینہ قبلہ کی طرف ہو۔ 5 وقت یعنی نماز کا اپنے وقت پر پڑھنا۔ 6 نیت کرنا . دل کے پکے ارادہ کا نام نیت ہے اگرچہ زبان سے کہنا مستحب ہے۔ نماز شروع کرنے سے پہلے ان شرطوں کا ہونا ضروری ہے ورنہ نماز نہیں ہوگی. فرائضِ نماز
نماز کے فرائض سات ہیں:
1تکبیرِ تحریمہ یعنی اَﷲُ اَکْبَرُ کہنا۔ 2قیام یعنی سیدھا کھڑے ہوکر نماز پڑھنا۔فرض، وتر، واجب اور سنت نماز میں قیام فرض ہے، بلاعذرِ صحیح اگر یہ نمازیں بیٹھ کر پڑھے گا تو ادا نہیں ہوں گی. نفل نماز میں قیام فرض نہیں۔ 3قرآت یعنی مطلقاًایک آیت پڑھنا۔ فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور سنت وتر و نوافل کی ہررکعت میں فرض ہے جب کہ مقتدی کسی نماز میں قرآت نہیں کرے گا۔ 4رکوع کرنا۔ 5سجدہ کرنا۔ 6قعدہ اخیرہ یعنی نماز پوری کرکے آخرمیں بیٹھنا۔ 7 دونوں طرف سلام پھیرنا۔ اِن فرضوں میں سے ایک بھی رہ جائے تو نماز نہیں ہوتی اگرچہ سجدئہ سہو کیا جائے۔
واجباتِ نماز
نماز میں درج ذیل چودہ امور واجبات میں سے ہیں: فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں قرآ ت کرنا (یعنی تنہا نماز پڑھنے والے یا باجماعت نماز میں اِمام کے لیے). فرض نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکعت کے علاوہ تمام نمازوں کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا۔ فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں اور واجب، سنت اور نفل نمازوں کی تمام رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورت یا بڑی آیت یا تین چھوٹی آیات پڑھنا۔ سورہ فاتحہ کو کسی اور سورت سے پہلے پڑھنا۔ قرآ ت، رکوع، سجدوں اور رکعتوں میں ترتیب قائم رکھنا۔ قومہ کرنا یعنی رکوع سے اٹھ کر سیدھا کھڑا ہونا۔ جلسہ یعنی دونوں سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھ جانا۔ تعدیلِ ارکان یعنی رکوع، سجدہ وغیرہ کو اطمینان سے اچھی طرح ادا کرنا۔ قعدۂ اُوليٰ یعنی تین، چار رکعت والی نماز میں دو رکعتوں کے بعد تشہد کے برابر بیٹھنا۔ دونوں قعدوں میں تشہد پڑھنا۔ امام کا نمازِ فجر، مغرب، عشاء، عیدین، تراویح اور رمضان المبارک کے وتروں میں بلند آواز سے قرآ ت کرنا اور ظہر و عصر کی نماز میں آہستہ پڑھنا۔ اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ وَرَحْمَۃُ اﷲِ کے ساتھ نماز ختم کرنا۔ نمازِ وتر میں قنوت کے لیے تکبیر کہنا اور دعائے قنوت پڑھنا۔ عیدین کی نمازوں میں زائد تکبیریں کہنا۔ نماز کے واجبات میں سے اگر کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو سجدئہ سہو کرنے سے نماز درست ہوجائے گی. سجدئہ سہو نہ کرنے اور قصداً تر ک کرنے سے نماز کا لوٹانا واجب ہے۔

Namaz ki Sunnatain Makroohat aur Mufsedat

Here is some sunnatain and mufsedat of namaz is describe in
 .,detail. Read carefully.

سننِ نماز

جو چیزیں نماز میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہیں لیکن ان کی تاکید فرض اور واجب کے برابر نہیں سنن کہلاتی ہیں۔ نماز میں درج ذیل سنن ہیں:
تکبیر تحریمہ کہنے سے پہلے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھانا۔
دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو معمول کے مطابق کھلی اور قبلہ رخ رکھنا۔
تکبیر کہتے وقت سر کو نہ جھکانا۔
امام کا تکبیر تحریمہ اور ایک رکن سے دوسرے رکن میں جانے کی تمام تکبیریں بلند آواز سے کہنا۔
سیدھے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے باندھنا۔
ثناء پڑھنا۔
تعوذ یعنی اَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ پڑھنا۔
تسمیہ یعنی بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ پڑھنا۔
فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورہ فاتحہ پڑھنا۔
آمین کہنا
ثنا، تعوذ، تسمیہ اور آمین سب کا آہستہ پڑھنا۔
سنت کے مطابق قرآت کرنا یعنی نماز میں جس قدر قرآنِ مجید پڑھنا سنت ہے اتنا پڑھنا۔
رکوع اور سجدے میں تین تین بار تسبیح پڑھنا۔
رکوع میں سر اور پیٹھ کو ایک سیدھ میں برابر رکھنا اور دونوں ہاتھوں کی کھلی انگلیوں سے گھٹنوں کو پکڑ لینا۔
قومہ میں امام کا تسمیع یعنی سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَہُ اور مقتدی کا تحمید رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہنا اور منفرد کا تسمیع اور تحمید دونوں کہنا۔
سجدے میں جاتے وقت پہلے دونوں گھٹنے، پھر دونوں ہاتھ، پھر ناک، پھر پیشانی رکھنا اور اٹھتے وقت اس کے برعکس عمل کرنا یعنی پہلے پیشانی، پھر ناک، پھر ہاتھ اور اس کے بعد گھٹنے اٹھانا۔
جلسہ اور قعدہ میں بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھنا اور سیدھے پاؤں کو اس طرح کھڑا رکھنا کہ اس کی انگلیوں کے سرے قبلہ رخ ہوں اور دونوں ہاتھ رانوں پر رکھنا۔
تشہد میں اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ پر شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنا اور اِلَّا اﷲُ پر انگلی گرا دینا۔
قعدۂ اخیرہ میں تشہد کے بعد درودِ ابراہیمی پڑھنا۔
درود اِبراہیمی کے بعد دعا پڑھنا۔
پہلے دائیں طرف پھر بائیں طرف سلام پھیرنا۔
ان سنتوں میں سے اگر کوئی سنت سہواً رہ جائے یا قصداً ترک کی جائے تو نماز نہیں ٹوٹتی اور نہ ہی سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے لیکن قصداً چھوڑنے والا گنہگار ہوتا ہے۔

مستحباتِ نماز

نماز میں درج ذیل اُموربجا لانا مستحب ہے:
قیام میں سجدہ کی جگہ نگاہ رکھنا۔
رکوع میں قدموں پر نظر رکھنا۔
سجدہ میں ناک کی نوک پر نظر رکھنا۔
قعدہ میں گود پر نظر رکھنا۔
سلام پھیرتے وقت دائیں اور بائیں جانب کے کندھے پر نظر رکھنا۔
جمائی کو آنے سے روکنا، نہ رکے تو حالتِ قیام میں دائیں ہاتھ سے منہ ڈھانک لیں اور دوسری حالتوں میں بائیں ہاتھ کی پیٹھ سے۔
مرد تکبیر تحریمہ کے لیے کپڑے سے ہاتھ باہر نکالیں اور عورتیں اندر رکھیں۔
کھانسی روکنے کی کوشش کرنا۔
حَيَ عَلَی الْفَلَاحِ پر امام و مقتدی کا کھڑے ہونا۔
حالتِ قیام میں دونوں پاؤں کے درمیان کم از کم چار انگلیوں کا فاصلہ ہو۔

مفسداتِ نماز

بعض اعمال کی وجہ سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور اسے لوٹانا ضروری ہو جاتا ہے، انہیں مفسداتِ نماز کہتے ہیں۔ نماز کو فاسد بنانے والے اعمال درج ذیل ہیں:
نماز میں بات چیت کرنا۔
سلام کرنا۔
سلام کا جواب دینا۔
درد اور مصیبت کی وجہ سے آہ و بکا کرنا یا اُف کہنا (لیکن جنت و دوزخ کے ذکر پر رونے سے نماز فاسد نہیں ہوتی).
چھینک آنے پر اَلْحَمْدُِﷲِ کہنا۔
کسی کی چھینک پر يَرْحَمُکَ اﷲُ یا کسی کے جواب میں يَھْدِيْکُمُ اﷲُ کہنا۔
بری خبر پر اِنَّاِﷲِ وَاِنَّا اِلَيْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنا۔
اچھی خبر پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہنا۔
دیکھ کر قرآن پڑھنا۔
کھانا پینا۔
عملِ کثیر یعنی ایسا کام کرنا کہ دیکھنے والا یہ گمان کرے کہ وہ نماز میں نہیں ہے۔
نمازی کا اپنے امام کے سوا کسی اور کو لقمہ دینا۔
قہقہہ کے ساتھ ہنسنا۔

مکروہاتِ نماز

بعض امور کی وجہ سے نماز ناقص ہو جاتی ہے یعنی نمازی اَصل اَجر و ثواب اور کمال سے محروم رہتا ہے، انہیں مکروہات کہتے ہیں۔ ان سے اِجتناب کرنا چاہیے۔ نماز کو مکروہ بنانے والے امور درج ذیل ہیں:
ہر ایسا کام جو نماز میں اﷲ کی طرف سے توجہ ہٹا دے مکروہ ہے۔
داڑھی، بدن یا کپڑوں سے کھیلنا۔
اِدھر اُدھر منہ پھیر کر دیکھنا۔
آسمان کی طرف دیکھنا۔
کمر یا کولہے وغیرہ پر ہاتھ رکھنا۔
کپڑا سمیٹنا۔
سَدْلِ ثوب یعنی کپڑا لٹکانا مثلاً سر یا کندھوں پر اس طرح ڈالنا کہ دونوں کنارے لٹکتے ہوں۔
آستین آدھی کلائی سے زیادہ چڑھی ہوئی رکھنا۔
انگلیاں چٹخانا۔
بول و براز (پاخانہ / پیشاب) یا ہوا کے غلبے کے وقت نماز ادا کرنا۔ اگر دورانِ نماز میں یہ کیفیت پیدا ہو جائے اور وقت میں بھی گنجائش ہو تو نماز توڑ دینا واجب ہے۔
قعدہ یا سجدوں کے درمیان جلسہ میں گھٹنوں کو سینے سے لگانا۔
بلاوجہ کھنکارنا۔
ناک و منہ کو چھپانا۔
جس کپڑے پر جاندار کی تصویر ہو اس کو پہن کر نماز پڑھنا۔
کسی کے منہ کے سامنے نماز پڑھنا۔
پگڑی یا عمامہ اس طرح باندھنا کہ درمیان سے سر ننگا ہو۔
کسی واجب کو ترک کرنا مثلاً رکوع میں کمر سیدھی نہ کرنا، قومہ یا جلسہ میں سیدھے ہونے سے پہلے سجدہ کو چلے جانا۔
قیام کے علاوہ اور کسی جگہ پر قرآنِ حکیم پڑھنا۔
رکوع میں قرآ ت ختم کرنا۔
صرف شلوار یا چادر باندھ کر نماز پڑھنا۔
امام سے پہلے رکوع و سجود میں جانا یا اٹھنا۔
قیام کے علاوہ نماز میں کسی اور جگہ قرآنِ حکیم پڑھنا۔
چلتے ہوئے تکبیر تحریمہ کہنا۔
امام کا کسی آنے والے کی خاطر نماز کو بلا وجہ لمبا کرنا۔
قبر کے سامنے نماز پڑھنا۔
غصب کی ہوئی زمین/مکان/کھیت میں نماز پڑھنا۔
الٹا کپڑا پہن/اوڑھ کر نماز پڑھنا۔
اچکن وغیرہ کے بٹن کھول کر نماز پڑھنا جبکہ نیچے قمیص نہ ہو۔
نماز توڑنے کے عذر
بلاعذر نماز توڑنا حرام ہے، البتہ چند حالتوں میں نماز توڑنا جائز ہے مثلاً مال کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو نماز توڑنا مباح ہے جبکہ جان بچانے کے لیے واجب ہے، خواہ اپنی جان یا کسی مسلمان کی جان بچانا مقصود ہو۔ نماز توڑنے کے لیے بیٹھنے کی ضرورت نہیں بلکہ کھڑے کھڑے ایک طرف سلام پھیر دینا کافی ہے۔

Difference between women and men in prayer

Women how to pray the same prayer as described how to pray Namaz. But few things are different in men and women of prayer which is written in Urdu. You can read in this page mard aurat ki namaz, namaz ka tariqa, namaz urdu, mard aur aurat 
ki namaz ka farq in Urdu
قدرت نے مرد اور عورت میں بعض اوصاف مساوی رکھے ہیں اور بعض میں فرق رکھا ہے، چونکہ اسلام دین فطرت ہے۔ اس لئے اس کے احکام میں بھی بعض میں مساوات اور بعض میں فرق رکھا ہے۔ جہاں جہاں فرق ہر ایک کو نظر آتا ہے، اس بارے ہر سلیم الفطرت آدمی سمجھتا ہے کہ اس سے بہتر صورت ممکن نہ تھی۔
علماء کا موقف
المرأة ترفع يديها حذاء منکبيها، وهو الصحيح لأنه أسترلها.
ابن همام، فتح القدير، 1 : 246
’’تکبیر تحریمہ کے وقت، عورت کندھوں کے برابر اپنے ہاتھ اٹھائے یہ صحیح تر ہے کیونکہ اس میں اس کی زیادہ پردہ پوشی ہے۔‘‘
فإن کانت إمرأة جلست علی إليتهاالأيسری و أخرجت رجليها من الجانب الأيمن لأنه أسترلها.
ابن همام، فتح القدير، 1 : 274
’’اگر عورت نماز ادا کر رہی ہے تو اپنے بائیں سرین پر بیٹھے اور دونوں پاؤں دائیں طرف باہر نکالے کہ اس میں اس کا ستر زیادہ ہے۔‘‘
والمرأة تنخفض فی سجودها و تلزق بطنها بفخذ يها لأن ذلک أسترلها.
مرغينانی، هدايه،1 : 50
’’عورت اپنے سجدے میں بازو بند رکھے اور اپنے پیٹ کو اپنی رانوں سے ملا دے کیونکہ یہ صورت اس کے لئے زیادہ پردہ والی ہے۔‘‘
علامہ کاسانی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
فأما المرأة فينبغی أن تفترش زرا عيها و تنخفض ولا تنتصب کإنتصاب الرجل و تلزق بطنها بفخذيها لأن ذلک أسترلها.
الکاسانی، بدائع الصنائع، 1 : 210
’’عورت کو چاہیے اپنے بازو بچھا دے اور سکڑ جائے اور مردوں کی طرح کھل کر نہ رہے اور اپنا پیٹ اپنے رانوں سے چمٹائے رکھے کہ یہ اس کے لئے زیادہ ستر والی صورت ہے۔‘‘
علامہ شامی لکھتے ہیں کہ
انها تخالف الرجل فی مسائل کثيرة.
’’عورت کئ مسائل(چند) میں مرد کے خلاف ہے۔‘‘
عورت تکبیر تحریمہ کے وقت کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھائے گی۔
آستینوں سے باہر ہاتھ نہیں نکالے گی۔
سینے کے نیچے ہاتھ پہ ہاتھ باندھے گی۔
رکوع میں مرد کی نسبت کم جھکے گی۔
انگلیوں کو گرہ نہیں دے گی نہ انگلیاں زیادہ پھیلائے گی بلکہ ملا کر رکھے گی۔
ہاتھ گھٹنوں کے اوپر رکھے گی۔
گھٹنوں میں خم نہیں کرے گی۔
رکوع و سجود میں گھٹنوں کو ملائے گی۔
سجدے میں بازو زمین پر پھیلائے گی۔
التحیات کے وقت دونوں پاؤں دائیں طرف نکال کر بیٹھے گی۔
مرد کی امامت نہیں کر سکتی۔
 نماز میں کوئی بات ہو جائے تو امام کو بتانے کے لئے تالی بجائے گی۔ سبحان اللہ نہیں کہے گی۔
بیٹھتے وقت ہاتھوں کی انگلیوں کے سرے گھٹنوں سے ملائے گی / انگلیاں ملائے گی۔
عورتوں کی جماعت مکروہ ہے مگر پڑھیں تو ان کی امام درمیان میں کھڑی ہو گی آگے نہیں۔
عورت کا جماعت میں حاضر ہونا مکروہ ہے (ہم اس سے متفق نہیں)
مردوں کے ہمراہ باجماعت نماز ادا کریں تو مردوں سے پیچھے کھڑی ہوں۔
عورت پر جمعہ کی نماز فرض نہیں ادا کرے گی تو ادا ہو جائے گی۔
عورت پر نماز عید واجب نہیں پڑھے گی تو ہو جائے گی۔
عورت پر تکبیرات تشریق نہیں۔
صبح کی نماز روشن کر کے پڑھنا عورت کے لئے مستحب نہیں۔
جہری نمازوں میں جہری قراءت نہیں کریں گی۔
عورت نماز میں سجدہ وقعدہ میں پاؤں کی انگلیاں کھڑی نہ کرے۔ یہ تمام تفصیل نماز کے حوالہ سے ہے ورنہ عورت اور مرد میں دیگر احکام میں بہت اختلاف ہے۔
شامی، ردالمختار، 1 : 506
والمرأة الاتجافی رکوعها وسجودها وتقعد علی رجليها وفی السجده تفترش بطنها علی فخذيها.
شيخ نظام الدين وجماعة علماء هند، عالمگيری، 1 : 75
’’عورت رکوع اور سجدہ میں اعضاء کھول کر نہ رکھے، پاؤں پر بیٹھے، سجدہ میں اپنا پیٹ رانوں پر رکھے۔‘‘
والمرأة تنحنی فی الرکوع يسيرا ولا تعتمد ولا تفرج أصابعها ولکن تضم يديها وتضع علي رکبتيها وضعا وتنحنی رکبتيها ولا تجافی عضد تيها.
شيخ نظام الدين وجماعة علماء هند، عالمگيری، 1 : 74
’’عورت رکوع میں کم جھکے، ٹیک نہ لگائے نہ انگلیاں کھلی رکھے، ہاتھوں کو بند رکھے اور گھٹنوں پر ہاتھ جما کر رکھے، گھٹنوں کو ٹیڑھا رکھے اور بازو دور نہ رکھے۔
عورت سجدہ میں کیسے ہو؟ احادیث مبارکہ کی روشنی میں
عن علی رضی الله عنه قال اذا سجدت المرأة فلتحتفر ولتضم فخذيها.
ابن ابي شيبه، المصنف، 1 : 241، الرقم : 2777
’’حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے جب عورت سجدہ کرے تو سمٹ کر کرے اور اپنی ران (پیٹ اور پنڈلیوں) سے ملائے رکھے۔‘‘
عن ابن عباس أنه سئل عن صلاة المرأة فقال تجتمع وتحتفر.
ابن ابی شيبه، المصنف، 1 : 241، الرقم : 2778
’’ابن عباس سے عورت کی نماز کے بارے میں پوچھا گیا، انہوں نے فرمایا جسم کوسکیٹر کر اور سمٹا کر نماز ادا کرے۔‘‘
عن مغيرة عن ابراهيم قال إذا سجدت المرأة فلتضم فخذيها والتضع بطنها عليها.
ابن ابی شيبه، المصنف، 1 : 242، الرقم : 2779
’’جب عورت سجدہ کرتے تو اپنے ران جوڑ کر اپنا پیٹ ان پر رکھے۔‘‘
عن مجاهد أنه کان يکره أن يضع الرجل بطنه علی فخذيه إذا سجد کما تضع المرأة.
ابن ابی شيبه، المصنف، 1 : 242، الرقم : 2780
’’(ابن عباس کے شاگرد) مجاہد کہتے ہیں مرد سجدہ میں اپنا پیٹ عورتوں کی طرح رانوں پر رکھے، یہ مکروہ ہے۔‘‘
عن الحسن (البصری) قال المرأة تضم فی السجود.
ابن ابی شيبه، المصنف، 1 : 242، الرقم : 2781
’’عورت سجدہ میں سمٹ جڑ کر رہے۔‘‘
عن إبراهيم قال إذا سجدت المرأة فلتلزق بطنها بفخذيها ولا ترفع عجيزتها ولا تجا فی کما يجافی الرجل.
ابن ابی شيبه، المصنف،1 : 242، الرقم : 2782
’’جب عورت سجدہ کرے تو پیٹ اپنے زانوؤں سے ملائے اور اپنی پیٹھ (سرین) مرد کی طرح بلند نہ کرے۔‘‘
عورت نماز میں کیسے بیٹھے؟ احادیث کی روشنی میں
عن خالد بن اللجلاج قال کن النسآء يؤمرن أن يتربعن إذا جلسن فی الصلوة ولا يجلسن جلوس الرجل علی أور اکهن يتقی علی ذلک علی المرأة مخافة أن يکون منها الشی…
ابن ابی شبيه، المصنف، 1 : 242، الرقم : 2783
’’عورتوں کو نماز میں چوکڑی بھر کر (مربع شکل میں) بیٹھنے کا حکم تھا اور یہ کہ وہ مردوں کی طرح سرینوں کے بل نہ بیٹھیں تاکہ اس میں ان کی پردہ پوشی کھلنے کا ڈر نہ رہے۔‘‘
عن نافع ان صفية کانت تصلی وهی متربعة.
ابن ابی شبيه، المصنف،1 : 242، الرقم : 2784
’’نافع سے روایت ہے حضرت سیدہ صفیہ نماز میں مربع شکل میں بیٹھا کرتی تھیں۔‘‘
عورت کو رکوع و سجود میں جسم کھلا نہیں رکھنا چاہیے
قال إبراهيم النخعی کانت المرأة تؤمر إذا سجدت أن تلزق بطنها بفخذيها کيلا ترتفع عجيزتها ولا تجا فی کما يجا فی الرجل.
بيهقی، السنن الکبری، 2 : 223
’’ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں عورت کو حکم تھا یہ سجدہ کرتے وقت اپنا پیٹ رانوں سے ملائے رکھے تاکہ اس کی پیٹھ بلند نہ ہو۔ اس طرح بازو اور ران نہ کھولے جیسے مرد۔‘‘
قال علی رضی الله عنه إذا سجدت المرأة فلتضم فخذيها.
بيهقی، السنن الکبری، 2 : 222، الرقم : 3014
’’حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا عورت سجدہ میں سکڑ کر رہے اعضاء کو ملا کر رکھے۔‘‘
عن ابی سعيد الخدری صاحب رسول اﷲ عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم  أنه قال خير صفوف الرجال الاول و خير صفوف النساء الصف الأخر وکان يامر الرجال أن يتجا فوا فی سجودهم يأمر النسآء أن ينخفضن فی سجود هن وکان يأمر الرجال أن يفر شوا اليسریٰ وينصبوا اليمنی فی التشهدو يأمر النسآء أن يتربعن وقال يا معشر النسآء لا ترفعن أبصار کن فی صلاتکن تنظرن إلی عورات الرجال.
بيهقی، السنن الکبری،2 : 222، الرقم : 3014
’’ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا نماز میں مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سرکار مردوں کو نماز میں سجدہ کے دوران کھل کھلا کر رہنے کی تلقین فرماتے اور عورتوں کو سجدوں میں سمٹ سمٹا کر رہنے کی۔ مردوں کو حکم فرماتے کہ تشہد میں بایاں پاؤں بچھائیں اور دایاں کھڑا رکھیں اور عورتوں کو مربع شکل میں بیٹھنے کا حکم دیتے اور فرمایا عورتو! نماز کے دوران نظریں اٹھا کر مردوں کے ستر نہ دیکھنا۔‘‘
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا :
إذا جلست المرأة فی الصلاة وضعت فخذها علی فخذها الاخریٰ و إذا سجدت الصقت بطنها فی فخذيها کأستر مايکون لها وإن اﷲ تعالی ينظر إليها ويقول يا ملآ ئکتی أشهد کم إنی قد غفرت لها.
بيهقی، السنن الکبری، 2 : 222، الرقم : 3014
’’جب عورت نماز میں اپنا ایک ران دوسرے ران پر رکھ کر بیٹھتی ہے اور دوران سجدہ اپنا پیٹ رانوں سے جوڑ لیتی ہے جیسے اس کے لئے زیادہ ستر والی صورت ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھ کر فرماتا ہے میرے فرشتو! میں تمہیں گواہ بنا کر اس کی بخشش کا اعلان کرتا ہوں۔‘‘
عن يزيد بن أبی حبيب أن رسول اﷲ  صلی الله عليه وآله وسلم  مر علی إمرأتين تصليان فقال إذا سجدتما فضمّا بعض اللحم إلی الأرض فإن المرأة ليست فی ذلک کالر جل.
بيهقی، السنن الکبری، 2 : 223، الرقم : 3016
’’یزید بن ابی حبیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نماز پڑھنے والی دو عورتوں کے پاس سے گزرے۔ فرمایا جب تم سجدہ میں جاؤ تو گوشت کا کچھ حصہ زمین سے ملا کر رکھا کرو! عورت مرد کی طرح نہیں۔‘‘
قلت لعطاء التشير المرأة بيديها کالر جال بالتکبير؟ قال لا ترفع بذلک يديها کالر جال وأشار أفخفض يديه جدا وجمعهما إليه وقال إن للمرأة هية ليست للرجل.
عبدالرزاق، المصنف، 3 : 137، الرقم : 5066
’’میں نے عطا سے پوچھا کہ عورت تکبیر کہتے وقت مردوں کی طرح ہاتھوں سے اشارہ کرے گی؟ انہوں نے کہا عورت تکبیر تحریمہ کے وقت مردوں کی طرح ہاتھ نہیں اٹھائے گی، اشارہ سے بتایا عطاء نے اپنے ہاتھ بہت نیچے کئے اور اپنے ساتھ ملائے اور فرمایا عورت کی صورت مرد جیسی نہیں۔‘‘
عطا کہتے ہیں
تجمع المراة يديها فی قيامهاما استطاعت
’’عورت کھڑے ہوتے وقت نماز میں جہاں تک ہوسکے ہاتھ جسم سے ملا کر رکھے۔‘‘
عبدالرزاق، المصنفً، 3 : 137، الرقم : 5067
حسن بصری اور قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
إذا سجدت المرأة فأنها تنفم ما استطاعت ولا تتجافی لکی لا ترفع عجيز تها.
عبدالرزاق، المصنف،3 : 137، الرقم : 5068
جب عورت سجدہ کرے تو جتنا ہو سکے سمٹ جائے اعضاء کو جدا نہ کرے مبادا جسم کا پچھلا حصّہ بلند ہو جائے۔
کانت تؤمر المرأة ان تضع زراعيها بطنها علی فخذيها إذا سجدت ولا تتجا فی کما يتجا فی الرجل. لکی لا ترفع عجيز تها.
عبدالرزاق، المصنفً، 3 : 138، الرقم : 5071
’’عورت کو حکم دیا گیا ہے کہ سجدہ کرتے وقت اپنے بازو اور پیٹ رانوں پر رکھے اور مرد کی طرح کھلا نہ رکھے تاکہ اس کا پچھلا حصہ بلند نہ ہو۔‘‘
عن علی قال إذا سجدت المرأة فلتحتفر ولتلصق فخذ يها ببطنها.
عبدالرزاق، المصنفً، 3 : 138، الرقم : 5072
’’حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے جب عورت سجدہ کرے تو سمٹ جائے اور اپنے ران اپنے پیٹ سے ملائے۔‘‘
جلوس المراءۃ (عورت کا بیٹھنا)
عن نافع قال کانت صفية بنت أبی عبيد إذا جلست فی مثنی أوأربع تربعت.
عبدالرزاق، المصنفً، 3 : 138، الرقم : 5074
صفیہ بنت ابوعبید جب دو یا چار رکعت والی نماز میںبیٹھتیں مربع ہو کر بیٹھیتں۔
عن قتاده قال جلوس المرأة بين السجدتين متورکة علی شقها الأيسر وجلوسها تشهد متربعة.
عبدالرزاق، المصنف، 3 : 139، الرقم : 5075
’’عورت دو سجدوں کے درمیان بائیں طرف سرینوں کے بل بیٹھے اور تشہد کے لئے مربع صورت میں۔‘‘
پس عورت اور مرد مسلمان کی نماز کی ادائیگی میں کھڑا ہونے، رکوع و سجود اور بیٹھنے میں شرعاً فرق ہے۔ ہر چند کہ ایسا کرنا فرض و واجب میں شامل نہیں۔ تاہم رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اور صحابہ کرام و تابعین، محدثین، فقہائے امت سے جب معتبر کتابوں کے حوالہ سے یہ فرق ثابت ہے اور امام بخاری و مسلم اور دیگر محدثین کے استاذ امام الحدثین حضرت امام عبد الرزاق اور دوسرے اکابر محدثین و فقہائے امت کی تصریحات، روایات تحقیقات سے بھی یہ فرق ثابت ہو رہا ہے۔ عقل و نقل کی رو سے یہ فرق ثابت ہے تو اس پر عمل کرتے رہیں۔ یہی راہ مستقیم و ہدایت حق ہے۔
شریعت کا منشاء یہی ہے اور یہ عورت کے وقار، عزت، احترام اور سترکا تقاضا بھی ہے۔ یہی اسلامی طریقہ ہے، مرد اور عورت کی نماز میں یہ فرق نہایت مناسب اور معنوی ہے۔ اسلام نے عورت اور مرد کی خصوصیات کا ہر جگہ خیال و لحاظ رکھا ہے۔ ان کی خلاف ورزی اور وہ بھی بلا دلیل شرعی مسلمان کا کام نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم دکھائے، سمجھائے اور اس پر چلائے۔
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

Latest

Powered by Blogger.

you

Widget

nwees

News & Updates : Congratulations To Those Students Who Have Passed Their Exams And Best Wish For Those Who Have Relegated Carry On Your efforts.*** Students Are Requested To Prepare Themselves For Next Exams.***Students Are Requested To Act Upon What They Have Learnt In TADREES-UL-ISLAM institute And Try To Convince Your Friends And Rerlatives To Join TADREES-UL-ISLAM institute For Learning.***Admissions Are Open For New Commers. *** By Acting Upon Sayings Of Allah Almighty In Quran Peace Can Be Established In Whole World.

videos

Follow on facebook